اسرائیل کی تجزیاتی غلطی اور اس کا دردناک انجام!

تحریر: محسن پاک آئین
ترجمہ: ڈاکٹر غلام مرتضی جعفری
صہیونی حکومت، غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی اور تمام فلسطنیوں پر مظالم کی وجہ سے دنیا بھرکے لوگوں کی نظرمیں نہایت منفور ہوچکی ہے، اس نے اپنی شرارت کو جاری رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس بارے میں مندرجہ ذیل نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:
1۔ صہیونی حکومت نے « قبل از وقت دفاع » کا نعرہ لگا کر ایک نئے جرم کےلئے جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اپنے اندرونی اور بیرونی مشکلات اور پریشانیوں کو چھپاتے ہوئے اپنے بے شمار مسائل کو مقبوضہ علاقوں سے باہرنکال سکے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پرحملہ کرنا، بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ رہائشی مکانات پر وحشیانہ بمباری، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے کمانڈروں اور سائنسدانوں کا قتل جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ « وقت سے پہلے دفاع» کا نعرہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور یہ نعرہ کسی بھی طرح ایران کے خلاف جارحیت کا جواز نہیں بنتا ہے؛ کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اسرائیل پر کسی قسم کا کوئی حملہ نہیں کیا تھا اور اس پر ایک گولی بھی نہیں چلائی تھی؛ اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری تنصیبات جوکہ مکمل طور پر پرامن ثابت ہوچکی ہیں کو بہانہ بنایا کہ ایرانی جوہری پروگرام اسرائیل کے لئے خطرہ ہے اور حملہ کردیا؛ جبکہ خود صہیونی حکومت کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، یہ حکومت خود کو پابند نہیں سمجھتی ہے کہ بین الاقوامی جوہری اداروں کے اہلکاروں کو اجازت دے؛ لہذا صہیونی حکومت اس قسم کی نعرے بازی سے اپنی جارحیت کو جواز فراہم نہیں کرسکتی ہے۔
2۔ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت امریکی گرین سگنل کے ساتھ شروع ہوئی ہے، ٹرمپ کے خیال میں ایران پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا جوہری معاہدہ کروایا جاسکتا ہے، یہی وجہ بنی ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنےکا اشارہ دیا ہے۔ در ایں اثناء بین الاقوامی جوہری توانائی کے سربراہ جو کہ جرمنی اور فرانس جیسے ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے بھی اپنی سیاسی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں پر گروسی کی خاموشی بھی یہی بتاتی ہے کہ وہ اسرائیل کے اس غیرقانونی حملوں کے حامی ہیں۔
3۔ اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیلی حملہ، احمقانہ اور جاہلانہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی تجزیہ کاروں کی غلطی کا پتہ بھی دیتا ہے؛ کیونکہ صہیونی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں سے بخوبی واقف تھی اور یہ ایک ایسی حکومت کے لئے جو پہلے سے ہی غزہ اور یمن کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، محاسباتی اور تجزیاتی طور پر غلط ہے۔ کوئی بھی عاقل انسان اپنے لئے ایک نیا محاذ جنگ نہیں کھولتا، اس جارحیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی جنگی تجزیہ کاروں کی عقل کام نہیں کررہی ہے۔ ان کی اس تجزیاتی غلطی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو وعدہ صادق 3 نامی آپریشن کرنے کا موقع فراہم کیا اور اسرائیل کے مختلف شہر ویران ہوگئے اور مزید ہونگے؛اگرچہ صہیونی حکومت نے کیمرہ مین اور نامہ نگاروں کو اسرائیلی شہروں میں ایرانی جوابی کاروائی سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتانے سے منع کیا ہے؛ اس کے باوجود واضح ہے کہ ایرانی جوابی کارروائی نے اسرائیل میں تباہی مچا دی ہے؛ جیسے کہ رہبرانقلاب متعدد بار فرماچکے ہیں کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کوئی احمقانہ حرکت کی تو تل ابیب کو ویران کردیں گے۔ آج تل ابیب اور حیفا ویران ہوچکے ہیں۔
4۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ جوابی کارروائی کے ساتھ ساتھ ڈپلومیسی کے میدان میں بھی حاضر ہے؛ یعنی مسلح افواج اور سیاستدان دوںوں اپنے اپنے وظیفے پر عمل پیرا ہیں اور جنگ اور سیاسی میدان میں احسن طریقے سے ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔
ہم پوری جرئت کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جنگی اور سیاسی دونوں میدانوں میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ دونوں میدانوں میں دشمن کو رسوائی اور ذلت کا سامنا ہے۔ موجودہ شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ اور عاقلانہ تھا۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری توانائی کے تمام مراکز جیسے کہ آج پوری کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں اسرائیلی احمقانہ حرکت کے بعد پہلے سے زیادہ بہترانداز میں چلیں گے۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی ہے۔
5۔ اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے افسران اور جوہری توانائی کے سائنسدانوں اور بےگناہ مظلوم شہریوں کی داغ مفارقت بہت ہی سنگین اور غمگین ہے؛ لیکن ایرانی قوم غاصب صہیونی حکومت کو ایک ایسی سزا دے گی جو ناقابل فراموش ہوگی یہ سزا صہیونی حکومت کے لئے پےدرپے شکست کا باعث بنے گی۔
در ایں اثناء قومی اتحاد، خاص کر اہل قلم اور دانشوروں کی جانب سے حکومت اور مسلح افواج کی حمایت، اور دشمن کی منفی تبلیغات پر عدم توجہ ہی صہیونی حکومت سے انتقام کا بہترین ذریعہ ہیں اور دشمن کو ہرمیدان خاص کر ملک میں کسی بھی قسم کی بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیں گی۔ ایرانی شہری ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ملک کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کو ایک دردناک سزا دیں گے اور تاریخ یاد رکھے گی۔