طاغوت کے منصوبے اور امام رضاعلیہ السلام کی بصیرت

حضرت علی ابن موسی الرضا علیہ السّلام، اللہ تعالی کی جانب سے مقرر کردہ رسولِ خاتم حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے آٹھویں جانشین ہیں۔ آپ کی کنیت “ابوالحسن” ہے۔ آپ کے مشہور القاب: رضا، عالم آل محمد، صابِر، فاضِل، رَضیّ، زَکیّ، وَلیّ، وَفیّ، صِدّیق، سِراجُ‌الله، قُرَّةُ عَیْنُ الْمُؤْمِنین، مَکیدَةُالْمُلْحِدین، ثامِنُ الْاَئِمّه، ضامنِ آهو، امامِ غریب، سُلطان، غریبُ الغرباء، رِئابُ التَّدبیر، رَبُّ السَّریر، کافِی الْخَلق، کُفْوُ الْمَلِک، نورُ الْهُدی، وَفیّ، شمس الشموس، انیس النفوس اور معین الضعفاء ہیں۔ شیخ کلینی سمیت اکثر علماء و مورخین کے مطابق آپ کی تاریخ ولادت11 ذی القعدہ، 148 ھ کو ہوئی ؛ جبکہ آپؑ کی شہادت آخر ماہ صفر سنہ 203 ہجری میں واقع ہوئی ۔
تحریر: ڈاکٹرغلام مرتضی جعفری
امام رضا علیہ السلام کی زندگی، تبلیغ دین اسلام اور اپنے زمانے کے ظالموں اور طاغوت کے خلاف جدوجہد میں گزری، امام علیہ السلام کی بصیرت اور طاغوت کی شکست کے چندنمونےقارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر کے خلاف قیام کرنے کو انبیاء علیہم السلام کے مشن کے ستونوں میں سے ایک ستون قرار دیا ہے:«وَ لَقَدْ بَعَثْنا في‏ كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلالَةُ فَسيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبينَ؛ اور بتحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو، پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض کے ساتھ ضلالت پیوست ہو گئی، لہٰذا تم لوگ زمین پر چل پھر کر دیکھو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا تھا۔» اس آیت میں اللہ تعالی نے طاغوت سے مبارزہ کرنے کا حکم دیا ہے؛ لہذا امام رضا علیہ السلام کی پوری زندگی طاغوت کے ساتھ مبارزہ پر محیط ہے، امام علیہ السلام کی سیاسی جدوجہد کا طریقہ، قرآن اور رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے عین مطابق تھا۔ امام رضا علیہ السلام نے دشمنان اسلام کے ناپاک منصوبوں اور سازشوں کو ناکام بنانے میں نہایت اہم کردار اداکرتے ہوئے دشمن کی سرگرمیوں اور سیاسی پوزیشنوں کےخلاف مناسب اقدامات کئے۔
طاغوت کی شکست
مامون نے کبھی مناظروں کا انعقاد کروایا، تاکہ امامؑ کی علمی مرجعیت کو نقصان پہنچایا جائے، کبھی ولیعہد بنا کر امامؑ کی شخصیت کو جاہ طلب اور اقتدار خواہ کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی اور اس طرح کے مختلف حربے استعمال کئے؛ لیکن امامؑ کی بصیرت سے سرشار مؤثر اور بروقت تدابیر کے سامنے سب سازشیں ناکام ہوگئیں۔ بعض ناعاقبت اندیشوں نے امام رضا علیہ السلام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ امام نے بنی عباس کی طاغوتی حکومت کو تسلیم کرلیاہے جوکہ قرآن کے خلاف ہے۔ بعض لوگ اسی وجہ سے امام کے مخالف ہوگئے اور بعض نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وقت کے حکمران کےساتھ دینے میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے!!؛ جبکہ امام رضاعلیہ السلام نے مختلف طریقوں سے اس نکتے پر تاکید کی کہ ولایت عہدی قبول کرنے اور مامون اور بنی عباس کی ظالمانہ پالیسیوں کی تصدیق کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے؛ واضح رہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام، شہر مدینہ میں تشریف فرما تھے۔ حکومت و خلافت کے مدعیوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے حالات بحرانی ہوچکے تھے۔ ہارون الرشید کی موت کے بعد، اس کے بیٹے محمد امین عباسی عراق کے شہر «بغداد» میں اور عبداللہ مامون عباسی خراسان کے شہر «مرو» میں، مسلمانوں پر حکومت کے مدعی تھے۔شہر «مرو» میں مامون کی حکومت متعدد مخالفین خصوصا علویوں کی جانب سے دھمکیوں اور چیلنجز کی زد میں تھی۔ اس کے بھا‏‏ئی کے لشکر کا کمانڈر، اس کو گرفتار کرکے شہر «بغداد» میں محمد امین کے حوالے کرنے کا دستور حاصل کر چکا تھا۔شاید اس مخمصہ سے نجات کے لیے مامون نے سیاسی میدان میں تبدیلی اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کی منصوبہ سازی کی۔ اسی مناسبت سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو «مرو» تشریف لانے پر مجبور کیا گیا؛ کیونکہ مامون اپنی زندگی اور حکومت کی بقاء؛ صرف اس زمانے کے علوی لوگوں پر کنٹرول اور ان سے استفادہ میں دیکھ رہا تھا۔
مامون اس اقدام کےذریعے مندرجہ ذیل مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا:
1۔ پہلے اپنے بھائي امین کو حکومت حاصل کرنے کے سلسلے میں ناامید کرکے اس کے پروپیگنڈوں کو بے اثر بنادینا؛
2۔ اپنی خلافت کو شرعی ثابت کرنا اور علویوں کو اپنی طرف مائل کرکے ان کے اصلی اسباب اور افراد کو پہچان کر ان کے قیام کو سرنگوں کرنا؛
3۔ اپنی حکومت کے اقدامات و اختیارات کو روحانی رخ دے کر اپنے مخالفین کو خاموش ہونے پر مجبور کرنا؛
4۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو قصر میں نظر بند کرکے لوگوں اور حضرتؑ کے درمیان فاصلہ ڈالنا اور حضرتؑ کے اقدامات پرکنٹرول رکھنا؛
5۔ مامون کا ارادہ تھا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو طالب حکومت اور تشنہ قدرت وطاقت ثابت کرکے آپٍؑ کی عظمت و مقام اور حیثیت کو پامال کرے۔
مامون کو اپنے نقشے اور منصوبے پر اس قدر اعتماد تھا کہ فرمان الہی کو ہی فراموش کرچکا تھا؛ «وَ مَكَرُوا وَ مَكَرَ اللَّهُ وَ اللَّهُ خَيْرُ الْماكِرينَ؛ ان لوگوں نے تدابیر سوچیں اور اللہ نے (بھی جوابی) تدبیر فرمائی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے »۔ مامون نے خفیہ تدبیر سوچا تھا؛ لیکن اللہ کی خفیہ تدبیر کے مقابلے میں ان کی تدابیر بے نتیجہ رہیں؛ کیونکہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ان کے شیطانی منصوبوں کو ناکام بنادیا۔ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے اس سلسلے کو ہمیشہ اپنے اہداف؛ یعنی اثبات حقانیت ولایت و امامت کی جانب آگے بڑھایا۔
بنی عباس کی خلافت کے باطل ہونے کی سند
حضرت امام علی رضا علیہ السلام ولایت عہدی قبول کرنے پر مجبور ہوئےتو ایک سند مرتب کی جس کے متن میں تحریر فرمایا: “مامون نے اپنے فرزندوں، عزیز و اقارب، اصحاب، دوستوں، تمام نوکروں اور کام کرنے والوں کو دستور دیا ہے کہ سب ہماری بیعت کریں اور خداوندعالم کے فرمان کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے حق سے محروم اور اپنی اولاد اور اپنے عزیز و اقارب اور تمام رشتہ داروں کو خلافت سے محروم کردیا ہے”۔ یہ سند حضرت کی تحریر کے ساتھ پوری عباسی حکومت میں منتشر کردی گئي کہ جو بنی عباس کی خلافت کے باطل ہونے اور اہل بیت علیہم السلام کی امامت و ولایت کی حقانیت کا سبب بنی۔
ولایت عہدی کے شرائط
حقیقت میں امام علیہ السلام نے حکومتی امورمیں عدم دخالت کی شرط لگاکر، امت اسلامیہ کو اپنے بابرکت وجود سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا۔ شیخ مفید نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ولایت عہدی کو قبول کرنے کے متعلق شرائط کا ذکیا ہے: «فَقَالَ لَهُ الرِّضَا علیه السلام فَإِنِّی أُجِیبُکَ إِلَى مَا تُرِیدُ مِنْ وِلَایَةِ الْعَهْدِ عَلَى أَنَّنِی لَا آمُرُ وَ لَا أَنْهَى وَ لَا أُفْتِی وَ لَا أَقْضِی وَ لَا أُوَلِّی وَ لَا أَعْزِلُ وَ لَا أُغَیِّرُ شَیْئاً مِمَّا هُوَ قَائِمٌ فَأَجَابَهُ الْمَأْمُونُ إِلَى‏ ذَلِکَ کُلِّه ؛ میں تیری ولایت عہدی کو ان شرائط کے تحت قبول کرتا ہوں کہ (حکومتی امور میں )میں کوئي امر و نہی نہیں کروں گا؛ کوئي فتوی نہیں دوں گا؛ کوئی قضاوت نہیں کروں گا؛ کسی کو عزل یا نصب نہیں کروں گا؛ تیری خلافت کے دوران جو قوانین رائج ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا» ۔ مامون نے حضرت کی تمام فرمائشات کو قبول کرلیا۔
امت اسلامیہ کی رہنمائی
امام علیہ السلام نے اس قلیل عرصے میں اپنے الہی فرائض کی انجام دہی کا موقع پایا اور امت اسلامیہ کی احسن طریقے سے راہنمائی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے علماء اور دانشوروں سے علمی گفتگو کی اور ان کو ہرقسم کے انحرافات سے متنبہ کیا۔
شیعوں کے خلاف سختی میں نرمی
حکومتی سخت پالیسیوں کی وجہ سے عاشقان اہل بیتؑ اور شیعیان حیدر کرارؑ اپنی زندگی کا بیشتر حصّہ دشوار گزار پہاڑیوں اور دور دراز دیہاتوں میں سختی اور مشکل میں گزارنے پر مجبور تھے، امام رضاعلیہ السلام کی جانب سے ظاہری طور پر ولایت عہدی قبول کرنے سے حکومت نے شیعوں کے خلاف سخت رویہ ترک کردیا۔
نماز جمعہ کے خطبوں میں اہل بیت کی فضیلت
جس سال امام علی رضا علیہ السلام کی ولی عہدی کا واقعہ پیش آیا، شہر مدینہ اور شاید بیشتر اسلامی علاقوں میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت بیان کی گئی؛ ورنہ اہل بیت علیہم السلام کو ستر سال تک منبروں پر برا بھلا کہا گیا اور بعد میں بھی کافی عرصہ تک کسی میں جرأت نہیں ہوتی تھی کہ اہل بیت علیہم السلام کے فضائل بیان کرے،لیکن اب ہر جگہ اہل بیت علیہم السلام کا نام عزت واحترام سے لیا جانے لگا۔
نمازعیدالفطرکا محمدی انداز
مامون نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے کہا کہ آپ ولی عہد کے عنوان سے نماز عید پڑھائیں تو حضرتؑ نے فرمایا: میں اس طرح نماز عید کے لیے گھر سے باہر نکلوں گا کہ جس طرح حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نکلا کرتے تھے۔ لوگ حضرت کی زیارت کے لیے راستے میں اور اپنے گھروں کی چھتوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت کی تشریف آوری کی خاطر چشم براہ تھے۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے غسل کیا اور سوتی کپڑے کا سفید عمامہ سر مبارک پر باندھا اور عمامے کا ایک گوشہ اپنے سینے اور دوسرا گوشہ اپنے دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکایا اور خوشبو لگائي پھر مخصوص عصا لے کر ایک خاص انداز سے باہر تشریف لائے۔حضرت پا برہنہ اور پاجامے کے پائنچے ٹخنوں تک اٹھائے ہوئے آگے بڑھے کچھ آگے بڑھ کر آسمان کی جانب سر کو بلند کیا اور تکبیر کہی۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو مسلمانوں اور ان کے لشکر نے اس انداز سے نکلتے ہوئے دیکھا تو سب اپنی اپنی سواریوں سے اتر گئے سب نے اپنے جوتوں کو اتار دیا اور تمام لوگوں نے حضرت کے ساتھ تکبیر بلند کی۔ حضرتؑ کی تکبیر کی آواز کے ساتھ لوگوں میں اس قدر گریہ طاری ہوا کہ شہر «مرو» میں لرزہ سا آگیا۔ مامون تک خبر پہنچی، فضل بن سہل نے اس سے کہا: اگر علی بن موسی الرضاؑ اسی حالت میں نماز کے مصلٰی تک پہنچ گئے اور لوگوں نے حضرتؑ کی یہ پیغمبرانہ روش و رفتار کو دیکھ لیا تو ان کے عاشق ہوجائیں گے کہ جس سے آپ کی حکومت کی بھاگ ڈور آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ مامون نے فورا ایک شخص کو حضرتؑ کی جانب بھیجا اور کہا: ہم نے آپؑ کو زحمت اور تکلیف میں ڈال دیا ہے ہم نہیں چاہتے کہ آپؑ کو کوئي اور تکلیف ہو آپ نماز نہ پڑھائیں اور واپس اپنے گھر تشریف لے جائیں! ۔ اس طرح مامون نے امامؑ کو نماز عید پڑھانے سے تو روک لیا؛ لیکن مامون کی ظاہری اور حکومتی جاہ و جلال پر آپؑ کا روحانی مقام و مرتبہ ہمیشہ حاوی رہا اور لوگوں کی زبانیں سالوں بعد آپؑ کے مظلوم آباؤ اجدادؑ کی شان میں کھل کر حقائق بیان کرنے لگیں اور طاغوتی نظام شکست سے دوچار ہوا تو امام علیہ السلام کو راستے سے ہٹانے اور شہید کرنے کا منصوبہ تیار کیاگیا۔